تعمیرات

موجودہ عمارت
بانیِ جامعہ حضرت مفسرِ قرآن علیہ الرحمہ کی حیات مبارکہ میں جامعہ اسلامیہ کے لئے قطعہ اراضی تو خریدا جا چکا تھامگر اس وقت جامعہ کی کوئی عمارت نہ تھی بلکہ شہر کے وسط میں حاجی محمد خالد صاحب کے مکان میں عارضی طور پر ادارہ مصروفِ عمل تھا۔ حضور مفسرِ قرآن علیہ الرحمہ کے وصال پر خدام و اخلاف کی مشاورت سے جامعہ کے لئے خریدی گئی جگہ کے ساتھ محترم جناب غلام سرور صاحب کی مملوکہ زمین میں ان کی اجازت و خوشی کے ساتھ آپ کا مزارِ پُر انوار بنایا گیا۔ (یہ جگہ انہوں نے خاص حضرت کے مزار کے لئے وقف کرکے رجسٹری مکمل کروادی ہے) آپ کے وصال باکمال کے بعد آپ کے خلفِ اکبر و فرزندِ ارجمند حضرت علامہ قاضی محمد سعید احمد نقشبندی جامعہ کے مہتمم اعلیٰ مقرر ہوئے تو آپ نے حالات کے نامساعد اور حوصلہ شکن ہونے کے باوجودجامعہ کی تعمیر پر اپنی پوری توجہ مبذول فرمائی۔ حضور مفسرِ قرآن علیہ الرحمہ کے دیرینہ ساتھی محترم جناب حاجی محمد شفیع گوندل علیہ الرحمہ و دیگر احباب و مخلصین کے خصوصی تعاون اور اپنے ذاتی ایثار سے نہایت محنت و جانفشانی کے ساتھ حضرت کا مزار پُر انوار اور جامعہ کی موجودہ بلڈنگ کی تعمیر اپنی نگرانی میں مکمل کروائی۔
اس وقت تقریباً اڑھائی کنال رقبہ زمین پر مشتمل جدید طرزِ تعمیر پر بنے ہوا دار درجنوںکمرے ، بیوت الخلا، غسل خانے، وسیع تہہ خانہ اور ان سب کے سامنے برآمدہ ، جامعہ کا وسیع صحن ، حضور مفسرِ قرآن کا مزار اور اس کے متعلقہ احاطہ کی انتہائی مختصر وقت میں تعمیر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سب کچھ جہاںاراکینِ جامعہ کی بلند ہمتی پر دلالت کرتا ہے وہیں مخلصینِ جامعہ کے لئے صدقہئ جاریہ بھی ہے۔
گذارشِ احوال
ان ساری کامیابیوں کے باوجودہمیںاپنی کوتاہیوں کااعتراف اوراپنی کمزوریوں کا احساس ہے اوران مشکلات سے بھی ہم بے خبرنہیں جوہمارے راستے میں حائل ہیں ۔ پہلے ہمیں اپنے معیار کے طلبہ تلاش کرنے کی فکرتھی اب اپنے دامن کی تنگی سوہانِ روح بنی ہوئی ہے۔جامعہ کی روزافزوں علمی شہرت کے باعث دور درازسے علم کے پیاسے آتے ہیںاور ہمیں بظاہرمحدودوسائل ان کی خدمت کرنے کی اجازت نہیںدیتے۔وسائل کی کمیابی ان اہم فکری و علمی منصوبوں کی راہ میںبھی رکاوٹ ہے جن کے ذریعے جامعہ کے فضلاکودور حاضر کے تقاضوں کے مطابق جدیدسے جدیدترعلمی اورفنی زیورسے آراستہ کرکے تیارکیا جاسکتاہے ۔
اس وقت جامعہ کی عمارت گیارہ کمروں پر مشتمل ہے جبکہ طلباء کی تعداد ایک سو سے متجاوز ہے اور اساتذہئ کرام و دیگر عملہ کے ارکان اس کے علاوہ ہیں ۔ بنابریں گذشتہ دو سالوں سے موجودہ عمارت طلباء و اساتذہ کی رہائش اور کلاس رومز وغیرہ ضروریات کے لئے اپنی تنگ دامانی کا مسلسل احساس دلا رہی ہے، اور شائقینِ علم ہیں کہ بڑھتے جارہے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اور میں یہ عرض کرنے میں کیوں ہچکچاؤں کہ یہی کمرے ہماری درسگاہیں ہیں اوریہی اقامت گاہیں۔ یہیں فرشِ زمین پرہم سبق پڑھتے پڑھاتے ہیں اوریہیں چادریں بچھا کر سستا لیتے ہیں۔تعلیمی کمروںکی تعمیرکی اہمیت کامجھے بھی احساس ہے اورجامعہ کے دیگرارکان کوبھی مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عملہ کے تعین کے سلسلہ میں بھی انتہائی کفایت شعاری سے کام لیاجاتا ہے۔موجودہ اساتذہ اس خدمت کواپنادینی فریضہ سمجھ کراداکرتے ہیں۔نہ تووہ اسباق کی کثرت کے شاکی ہیں اورنہ ہی انہیں اوقاتِ کارکردگی کی طوالت کاگلہ ہے۔لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی خدشہ ہے کہ ہماری یہ کفایت شعاری ہمیں مہنگی نہ پڑے اورکہیں ہماری تعلیمی ترقی میں رکاوٹ کاباعث نہ بنے۔

فوری ضرورت
جامعہ کی موجودہ عمارت طلباء کی کثرت کے باعث ناکافی ہوچکی ہے۔ طلباء اور اساتذہ کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے بڑی دقت کا سامنا ہے۔ جبکہ جامعہ کی علمی کارکردگی اور شہرت کی بناء پر کثیر تعداد میں طلباء کھنچے آرہے ہیں، عمارت ناکافی ہونے کی وجہ سے بہت افراد سے کی خدمت سے ہم محروم رہ جاتے ہیں۔ نیز نماز جمعۃ المبارک کے موجودہ برآمدہ اور صحن میں ادا کی جاتی ہے، موسم کی شدت اور بارش کی وجہ سے نمازیوں کو بھی بہت تکلیف اٹھانا پڑتی ہے۔ ان ضروریات کے پیشِ نظر کبھی ہم اپنے حالات کو دیکھتے ہیں اور کبھی ان بڑھتی ہوئی ضروریات کو ۔ جامعہ کی معیشت تو پہلے ہی قرضوں کے سہارے پر تھی اور اب تو مسائل بھی سینہ تانے سامنے کھڑے ہیں ۔ یہ گو مگو کا عالم ، یہ فکری انتشار اور ذہنی اضطراب، جس سے ہم دوچار ہیں۔اس اسلامی مرکز کی ترقی کی راہ میں پہاڑ بن کر کھڑا ہے۔ ہمیں آپ کی مخلصانہ دعاؤں اور فراخدلانہ تعاون سے بہر صورت تذبذب کی اس کیفیت کو ختم کرنا ہے۔
ان حالات میں ہمارے لئے اب اس کے سوا اور کوئی چارہ باقی نہیں رہا کہ جلد از جلد مزید تعمیر کی طرف قدم بڑھایا جائے ۔ فی الوقت کم از کم مسجد کے ہال والے حصہ کو جلد از جلد تعمیر کرنے کی فوری اور اشد ضرورت ہے تاکہ اس کے بیسمنٹ میں وقتی طور پر طلباء کی ضروریات کو پورا کیا جاسکے اور اوپر مسجد کے ہال میں نمازیوں کی مشکلات کا ازالہ کیا جاسکے۔ اگرچہ اس پر زرِ کثیر خرچ ہوگا مگر اپنے خالق کی بے پایاں عنایتوں پر ہمیں یقین واثق ہے کہ وہ ضرور غلامانِ مصطفی کو اس جانب متوجہ فرمائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ وہی جانتا ہے کہ کس کس خوش نصیب کے نام کاتبِ تقدیر نے یہ خدمت لکھ رکھی ہے ۔